کراچی یونیورسٹی میں خودکش دھماکہ کرنے والی خاتون کی شناخت ہوگئی

کراچی یونیورسٹی میں خودکش دھماکہ کرنے والی خاتون کی شناخت ہوگئی

خاتون کی شناخت شیری کے نام سے کی گئی ہے‘ خاتون حملہ آور 6 ماہ سےکراچی میں رہائش پذیرتھی‘ خاتون کا شوہر اور بہن بھی ڈاکٹر ہیں ۔ تفتیشی حکام

karachi University

کراچی یونیورسٹی میں خودکش دھماکا کرنے والی خاتون کی شناخت ہوگئی ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق تفتیشی حکام سے معلوم ہوا ہے کہ خاتون کی شناخت شیری کے نام سے کی گئی ہے ، جو دوسرے صوبے سے زولوجی میں ایم ایس کرچکی ہے ، خاتون 6 ماہ سےکراچی میں رہائش پذیرتھی ، حملہ آور زولوجی ڈیپارٹمنٹ سے ایم فل کر رہی تھی جب کہ حملہ آور کا شوہر اور بہن بھی ڈاکٹر ہیں

 خاتون حملہ آور کے خاندان کے دیگر افراد بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں ، مبینہ خاتون خودکش بمبار کے والد حال ہی میں بلوچستان سے گریڈ 20 میں ریٹائر ہوئے اور اب تک خاتون خودکش حملہ آور کے خاندان کا کوئی کرمنل رکارڈ نہیں ملا۔ تفتیشی حکام کے مطابق ممکنہ طور پر خاتون خودکش بمبار نے کراچی یونیورسٹی آنے کیلئے رکشے کا استعمال کیا ، خاتون نے جامعہ کراچی میں مسکن گیٹ کے راستے سے دوپہر ایک بج کر 56 منٹ پر داخل ہوئی

خیال رہے کہ گزشتہ روز کراچی یونیورسٹی مین ہونے والے دھماکے میں دھماکے سے 4 افراد جاں بحق اور کئی زخمی ہوگئے تھے ، یہ دھماکہ اس وقت ہوا جب جامعہ کراچی میں چینی زبان کی تعلیم دینے والے کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ کے گیٹ پر خاتون بمبار نے عین اس وقت خود کو دھماکے سے اڑا یا جب چینی اساتذہ کی وین اندر داخل ہونے والی تھی ، دھماکہ اتنا زوردار تھا کہ اس کی آواز دور تک سنائی دی گئی ، دھماکے کی وجہ سے قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے ، لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور دھماکے سے 4 افراد جاں بحق اور کئی زخمی ہوگئے ، واقعے کی اطلاع ملتے ہی رینجرز، پولیس، فائر بریگیڈ اور دیگر امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں جنہوں نے لاشوں اور زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا جب کہ کالعدم بلوچ لبریشن آرمی نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

انچارج سی ٹی ڈی راجا عمر خطاب نے بتایا کہ دھماکہ خود کش ہے جس کی ذمہ داری بلوچ علیحدگی پسند تنظیم نے قبول کی ہے، حملہ آور نے بارودی مواد ایک بیگ میں رکھا ہوا تھا جو اس نے اپنی کمر پر پہنا تھا ، جامعہ کی سکیورٹی سخت ہونے کی وجہ سے حملے میں آئی ای ڈی استعمال نہیں کی گئی کیوں کہ گاڑی پر آئی ای ڈی ڈیوائس لگانامشکل تھا اس لیے خودکش دھماکہ کیا گیا۔ واقعے کے حوالے سے کراچی پولیس چیف غلام نبی میمن نے کہا ہے کہ ابتدائی طور پر دھماکہ خودکش ہی لگتا ہے جس میں برقع پوش خاتون ملوث ہوسکتی ہے تاہم حتمی بات تحقیقات کے بعد سامنے آئے گی کیوں کہ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ دھماکہ ایکسپلوز ڈیوائس کے ذریعے کیا گیا

waqarworld

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *